Sale!

لب پہ آ سکتا نہیں

Original price was: ₨700.00.Current price is: ₨400.00.

Categories: , ,

Description

Genre : Sufism

یہ کتاب سید حسن علی کے روحانی محسوسات، اقوال و اشعار پر مبنی ہے۔ کتاب سے چند محسوسات درج زیل ہیں۔

 اللہ کے انعام یافتہ بندے اللہ کے بندوں کے دلوں کا سکون ہوتے ہیں۔

احساس حساس روحوں کا مال ہے۔۔ متاعِ حیات ہے۔

جلوے کے لیے منظر کا نہیں “نظر” کا ہونا ضروری ہے۔

محبوب کی سنگت سے انسان پر افکار کا نزول ہوتا ہے۔

جس نے آپ کو اپنے جگر کا ٹکڑا دے دیا، اب مزید آپ نے اُس سے کیا لینا ہے۔

مقابلوں کے زمانوں میں آسانیاں تقسیم کرنے کا رواج ختم

و جاتا ہے

یہ کتاب سید حسن علی کے روحانی محسوسات، اقوال و اشعار پر مبنی ہے۔ کتاب سے چند محسوسات درج زیل ہیں۔

اللہ کے انعام یافتہ بندے اللہ کے بندوں کے دلوں کا سکون ہوتے ہیں۔

احساس حساس روحوں کا مال ہے۔۔ متاعِ حیات ہے۔

جلوے کے لیے منظر کا نہیں “نظر” کا ہونا ضروری ہے۔

محبوب کی سنگت سے انسان پر افکار کا نزول ہوتا ہے۔

جس نے آپ کو اپنے جگر کا ٹکڑا دے دیا، اب مزید آپ نے اُس سے کیا لینا ہے۔

مقابلوں کے زمانوں میں آسانیاں تقسیم کرنے کا رواج ختمہ و جاتا ہے۔۔

 

****

معروف سیرت نگار اعجاز احمد صاحب کا کتاب “لب پہ آ سکتا نہیں” پر تبصرہ

دل سے جاری  ہونے  والا  عِلم

اللہ کریم نے انسان کی تخلیق فرمائی تو اِسے اپنی ذات کے علاوہ باقی اشیاء کا عِلم بھی عطا کیا۔ اِس عِلم نے انسان کو باقی تمام مخلوقات سے ممتاز کر دیا۔ اِسی لیے اِنسان کو اپنا خلیفہ بنا کر دُنیا میں بھیجا۔ اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہلی وحی میں پڑھنے کا حکم دیا۔ انسان کی تخلیق کاذِکر فرما کر قلم کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔ اِسی قلم نے انسان کو عِلم اور مشاہدہ کو محفوظ کرنے کا طریقہ سیکھایا۔

انسانی ذہن کو کائنات کی وُسعتوں جیسا بڑا کینوس (Canvas) دیا۔ اب یہ انسان کی اپنی اُڑان اور ہمت ہے کہ وہ کہاں تک سیر کرے۔ کہاں تک مشاہدہ کرے، کہاں تک اِس کو محفوظ کرے اور پھر اِسے اپنے آس پاس موجود اور آنے والے وقت کے لوگوں تک کیسے پہنچاے۔ اِس مقصد کے لیے انسان نے بہت سے انداز اپناے۔ کسی نے منظر کشی کی تو کسی نے تصور دیا، کسی نے شاعری کی تو کسی نے نثر لکھی۔ کسی نے سمندر لکھا تو کسی نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا۔ اِنہیں ذرائع نے عِلم، مشاہدہ ، اور تجربہ آنے والے لوگوں تک پہنچایا۔ کبھی کبھی کسی کی کہی ہوئی ایک بات ہی انسان کو کائنات کی وسعتوں تک لے جاتی ہے۔ اور انسان کہہ اُٹھتا ہے۔

علموں بس کریں او یار
اِکو  الف   تیرے    درکار

کسی کے خیالات پر تبصرہ کرنا یا اُس کا تنقیدی جائزہ لینا مشکل ترین کاموں میں سے ایک ہے۔ اِنہیں پڑھتے ہوے نہ تو ہم اُس ماحول میں ہوتے ہیں نہ ہی اُس کیفیت میں جن سے گذر کر یہ خیالات جمع کیے جاتے ہیں۔ اِس کے باوجود یہ تحریریں کئی گتھیاںسُلجھاتی ہیں، کئی اُفق دکھاتی ہیں۔ حسن علی کا اندازِ بیان محبت اور مشاہدہ میں ڈوبا ہوا ہے۔ بہت سی باتیں پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ کہیں پہلے بھی پڑھی یا سُنی ہوں۔ اچھے اور سچے خیال کی یہ نشانی ہے کہ آپ اِسے محسوس کرنے لگتے ہیں کیونکہ یہ میری اور آپ کی ترجمانی کر رہے ہوتے ہیں۔ مجھے حسن علی کی تحریر میں نرم اور اِ حساس سے بھرے دل کی خُوشبو آتی ہے۔ اِن میں بڑا مصنف ہونے کی خُوبیاں نظر آتی ہیں۔

میری دُعا ہے کہ اللہ کریم اِ نہیں عِلم و فضل کا کمال عطا فرماے اور یہ اندھیرے میں روشنی بکھیرنے کا کام کرتے رہیں۔ آمین

آخر میں حسن علی کا ایک خوبصورت خیال ہے:

“جلوے کے لیے منظر کا نہیں نظر کا ہونا ضروری ہے”

اعجاز احمد
سیرت نگار، کتاب: محمد رسول اللہ

Reviews

There are no reviews yet.

Only logged in customers who have purchased this product may leave a review.